اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والو! اللہ کی عدالت کو یاد رکھو
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار، دولت، محل اور حکومت ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔ فرعون اپنی طاقت اور سلطنت کے باوجود ہلاک ہوا، نمرود کا غرور باقی نہ رہا، شداد کے دعوائے اقتدار کا انجام عبرت بنا، اور یزید بھی دنیا سے رخصت ہوگیا۔ آج جن لوگوں کے پاس اقتدار ہے، کل وہ بھی اسی مٹی کے نیچے ہوں گے جہاں ایک عام انسان جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوگا کہ دنیا میں کیے گئے اعمال کا حساب ساتھ ہوگا۔
اللہ رب العزت فرماتا ہے:
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ
(سورۃ ابراہیم: 42)
ترجمہ: اور ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے بے خبر ہے، وہ تو انہیں اس دن تک مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں دہشت سے کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
یہ آیت ہر اس شخص کے لیے بہت بڑا سبق ہے جو اختیار، طاقت اور منصب ملنے کے بعد سمجھتا ہے کہ اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ دنیا کی عدالت سے کوئی شخص بچ بھی جائے، اللہ کی عدالت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔